یعنی جب وہ سچے دین کا پیغام عام لوگوں کے پاس لے کر گئے اور بہت سے لوگ ان پر ایمان لانے لگے تو فرعون کے لوگوں نے یہ تجویز دی کہ جو مرد ایمان لائیں، ان کے بیٹوں کو قتل کردو اور عورتوں کو زندہ رکھو تاکہ انہیں غلام بناکر ان سے خدمت لی جائے، یہ حکم ایک تو موسیٰ (علیہ السلام) کی پیدائش سے پہلے دیا گیا تھا جس کی تفصیل سورۂ طٰہٰ اور سورۂ قصص میں گزرچکی ہے، اور اس کی وجہ یہ تھی کہ کسی نجومی نے پیشین گوئی کی تھی کہ بنی اسرائیل کا کوئی شخص فرعون کا تختہ الٹے گا، اور دوسری بار یہ حکم اس وقت دیا گیا جب لوگ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لانے لگے، اور بیٹوں کو قتل کرنے کا منشاء ایک تو یہ تھا کہ ایمان لانے والوں کی نسل نہ پھیلے، اور دوسرے عام طور سے انسان کو اپنے بیٹوں کے قتل ہونے کا زیادہ صدمہ ہوتا ہے، اس لئے لوگ ایمان لاتے ہوئے ڈریں گے، لیکن اللہ تعالیٰ نے آگے ارشاد فرمایا ہے کہ کافروں کی اس طرح کی تدبیریں آخر کار ناکام ہوتی ہیں، اور اللہ تعالیٰ نے جو فیصلہ کیا ہوتا ہے وہی غالب رہتا ہے، چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ آخر کار فرعون غرق ہوا اور بنی اسرائیل کو فتح حاصل ہوئی۔