کفارِ عرب بعض چوپایوں کے کان چیر کر بتوں کے نام پر وقف کر دیتے تھے، اور ایسے جانور سے کوئی فائدہ اٹھانے کو جائز نہیں سمجھتے تھے۔ اس باطل رسم کی طرف اشارہ ہے کہ اس پر شیطان عمل کرا رہا ہے۔ اور اللہ کی تخلیق میں تبدیلی سے مراد خود یہی عمل بھی ہوسکتا ہے کہ جانور کے کان خوامخواہ چیر دیئے جائیں، اس کے علاوہ ایک حدیث میں آنحضرت ﷺ نے بعض ان کاموں کو بھی تخلیق میں تبدیلی قرار دے کر منع فرمایا ہے، جو عورتیں اپنے حسن میں اضافہ کرنے کی غرض سے کیا کرتی تھیں، مثلا جسم کے کسی حصے کو سوئیوں وغیرہ سے گود کر نشانات بنوانا، چہرے کے قدرتی رویں کو (جو عیب کی حد تک بڑھا ہوا نہ ہو) صاف کرنا اور دانتوں کے درمیان مصنوعی فاصلہ کروانا۔ (تفصیل کے لئے اس آیت کے تحت معارف القرآن کی طرف رجوع فرمائیے۔)