16 صفر 1448ھ
31 جولائی 2026ء
جمعہ | Friday
✦ قرآن ✦
اُذِنَ لِلَّذِیۡنَ یُقٰتَلُوۡنَ بِاَنَّہُمۡ ظُلِمُوۡا ؕ وَ اِنَّ اللّٰہَ عَلٰی نَصۡرِہِمۡ لَقَدِیۡرُ۔
جن لوگوں سے جنگ کی جارہی ہے ، انہیں اجازت دی جاتی ہے (کہ وہ اپنے دفاع میں لڑیں) کیونکہ ان پر ظلم کیا گیا ہے ، اور یقین رکھو کہ اللہ ان کو فتح دلانے پر پوری طرح قادر ہے۔
وضاحت:
مکہ مکرَّمہ میں تیرہ (13) سال تک صبر وضبط کی تلقین کے بعد یہ پہلی آیت ہے جس میں مسلمانوں کو کافروں کے خلاف تلوار اُٹھانے کی اجازت دی گئی۔ اِس سے پہلے مسلمانوں کو کفار کے ظلم وستم کا کوئی جواب دینے کی اجازت نہیں تھی، بلکہ ہر زیادتی پر صبر کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔
حوالہ: سورۃ الحج آیت 39