Todays Date

🇵🇰 آج کی تاریخ 🌤

🇵🇰 آج کی تاریخ 🌤

29 ربیع الثانی 1448ھ
12 اکتوبر 2026ء
پیر | Monday

✦ قرآن ✦
قُلۡ لَّوۡ اَنۡتُمۡ تَمۡلِکُوۡنَ خَزَآئِنَ رَحۡمَۃِ رَبِّیۡۤ اِذًا لَّاَمۡسَکۡتُمۡ خَشۡیَۃَ الۡاِنۡفَاقِ ؕ وَ کَانَ الۡاِنۡسَانُ قَتُوۡرًا
(اے پیغمبر! ان کافروں سے) کہہ دو کہ: اگر میرے پروردگار کی رحمت کے خزانے کہیں تمہارے اختیار میں ہوتے تو تم خرچ ہو جانے کے ڈر سے ضرور ہاتھ روک لیتے، اور انسان ہے ہی بڑا تنگ دل!
وضاحت:

رحمت کے خزانوں سے یہاں مراد نبوت عطا کرنے کا اختیار ہے، کفار مکہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت کا انکار کرتے ہوئے کہا کرتے تھے کہ یہ مکہ یا طائف کے کسی بڑے آدمی کو کیوں نہیں دی گئی؟ گویا وہ یہ کہہ رہے تھے کہ کسی کو نبوت ہماری مرضی سے دینی چاہئیے تھی، اللہ تعالیٰ اس آیت میں فرما رہے ہیں کہ اگر نبوت عطا کرنے کا اختیار تمہیں دے دیا جاتا تو تم اس میں اسی طرح بخل سے کام لیتے جیسے دنیوی دولت کے معاملے میں بخل کرتے ہو کہ خرچ ہونے کے ڈر سے کسی کو نہیں دیتے۔

حوالہ: سورۃ بنی اسرائیل آیت 100

50% LikesVS
50% Dislikes