صفا اور مروہ مکہ مکرمہ میں دو پہاڑیاں ہیں، جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اپنی اہلیہ حضرت ہاجرہ (رضی اللہ عنہا) کو اپنے دودھ پیتے صاحبزادے اسماعیل (علیہ السلام) کے ساتھ چھوڑ کرگئے تو حضرت ہاجرہ (رضی اللہ عنہا) پانی کی تلاش میں ان پہاڑیوں کے درمیان دوڑی تھیں، حج اور عمرے میں اللہ تعالیٰ نے ان کے درمیان سعی کرنا واجب قرار دیا ہے، اگر چہ سعی واجب ہے مگر یہاں “کوئی گناہ نہیں” کے الفاظ اس لئے استعمال فرمائے گئے ہیں کہ زمانہ جاہلیت میں یہاں دو بت رکھ دئے گئے تھے جو اگرچہ بعد میں ہٹا لیے گئے مگر بعض صحابہ کو یہ شک ہوا کہ شاید ان پہاڑیوں کے درمیان دوڑنا جاہلیت کی نشانی ہونے کی وجہ سے گناہ ہو، آیت نے یہ شک دور کردیا۔
🇵🇰 آج کی تاریخ 🌤
3 صفر 1448ھ
18 جولائی 2026ء
ہفتہ | Saturday
اِنَّ الصَّفَا وَ الۡمَرۡوَۃَ مِنۡ شَعَآئِرِ اللّٰہِ ۚ فَمَنۡ حَجَّ الۡبَیۡتَ اَوِ اعۡتَمَرَ فَلَا جُنَاحَ عَلَیۡہِ اَنۡ یَّطَّوَّفَ بِہِمَا ؕ وَ مَنۡ تَطَوَّعَ خَیۡرًا ۙ فَاِنَّ اللّٰہَ شَاکِرٌ عَلِیۡمٌ
بیشک صفا اور مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں۔ لہٰذا جو شخص بھی بیت اللہ کا حج کرے یا عمرہ کرے تو اس کے لیے اس بات میں کوئی گناہ نہیں ہے کہ وہ ان کے درمیان چکر لگائے۔ اور جو شخص خوشی سے کوئی بھلائی کا کام کرے تو اللہ یقیناً قدر دان (اور) جاننے والا ہے۔
وضاحت:
حوالہ: سورۃ البقرہ آیت 158