یہ ان تین حضرات کے واقعے سے ملنے والا سبق ہے جس کی طرف اللہ تعالیٰ نے توجہ دلائی ہے۔ انہوں نے اپنی غلطی کو چھپانے کے لیے منافقین کی طرح جھوٹے سچے بہانے نہیں بنائے، بلکہ جو حقیقت تھی، وہ سچ سچ بیان کردی کہ ان کے پاس کوئی عذر نہیں تھا۔ ان کی اس سچائی کی برکت سے اللہ تعالیٰ نے ان کی نہ صرف توبہ قبول فرمائی، بلکہ سچے لوگوں کی حیثیت سے قیامت تک کے لیے ان کا تذکرہ قرآن کریم میں زندہ جاوید کردیا گیا۔ اس آیت میں یہ تعلیم بھی ہے کہ انسان کو اپنی صحبت سے سچے لوگوں کے ساتھ رکھنی چاہئے، جو زبان کے بھی سچے ہوں، اور عمل کے بھی سچے۔