قصور میں مولانا فضل الرحمٰن کا دھاندلی، مہنگائی اور ریاست کی ناکامی پر شدید تنقید

قصور کی سرزمین پر پھول نگر میں تحفظ مدارس دینیہ و عوامی حقوق کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔ جمعیۃ علماء اسلام کے قائد مولانا فضل الرحمٰن نے عوام کے بھرپور اجتماع سے خطاب کیا۔

اس اجتماع کو پنجاب کے عوام کی سوچ میں تبدیلی کی نوید قرار دیا گیا۔ مولانا نے موجودہ سیاسی و معاشی صورتحال، انتخابی دھاندلی، ریاستی اداروں کی ناکامی، مہنگائی اور دینی مدارس کے تحفظ پر تفصیلی خطاب کیا۔

مولانا فضل الرحمٰن نے خطاب کا آغاز قرآن مجید کی آیت سے کیا۔ انہوں نے برصغیر کی آزادی کی جدوجہد میں علماء کرام کی قربانیوں کا ذکر کیا۔

جمعیۃ علماء اسلام نے فرقہ واریت، لسانیت اور قومیت کی سیاست کو شکست دی۔ آج بھی پاکستان کو غیر ملکی قبضے سے بچانے کی جنگ لڑ رہی ہے۔

گلگت کے پولنگ اسٹیشن کا حوالہ دیتے ہوئے مولانا نے کہا کہ جہاں جمعیۃ جیت رہی تھی وہاں ووٹ کے بکسے دریا میں پھینک دیے گئے۔ مقتدرہ عوام کے ووٹ پر ڈاکہ ڈال رہی ہے۔

پارلیمنٹ عوام کے بجائے مقتدرہ کو طاقتور بنا رہی ہے۔ مہنگائی، پیٹرول اور بجلی کی قیمتوں پر سوال اٹھاتے ہوئے مولانا نے کہا کہ پورے خطے میں بجلی سستی ہے مگر پاکستان میں مہنگی کیوں۔

عوام ٹیکس نہیں دے رہے کیونکہ ان کا ٹیکس آئی ایم ایف اور بیرونی مفادات پر خرچ ہوتا ہے۔ خیبر پختونخوا میں غروب آفتاب کے بعد پولیس تھانوں سے باہر نہیں نکلتی۔

سڑکیں مسلح گروہوں کے حوالے ہیں۔ بلوچستان اور پشتون علاقوں میں بڑھتی ہوئی تشدد کی لہر کا ذکر کیا۔

فوج کو مخاطب کرتے ہوئے مولانا نے کہا کہ آپ کی ذمہ داری ملک کی سلامتی ہے، عوام پر احسان نہیں۔ فوج عوام سے کیوں لشکر بنوانے کا کہہ رہی ہے کہ لشکر بناؤ اور دہشتگردوں سے لڑو۔ مولانا نے اس کے آنے والے خطرات بتائے کہ اس سے آنے والی نسلوں تک ذاتی دشمنیاں جنم لے گی۔ آپ کی ذمہ داری ہے خود نبھاؤ، عوام کو نہ لڑاؤ۔

پنجاب میں نئے عادی مجرم قانون کی شدید مذمت کی۔ دینی مدارس کی رجسٹریشن میں رکاوٹوں اور 18 سال سے کم عمر میں نکاح کے قانون کی مخالفت کی۔

26ویں آئینی ترمیم میں جمعیۃ کی کامیابیوں کا ذکر کیا۔ مولانا نے اختتام پر کہا کہ جمعیۃ علماء اسلام عوام کے حقوق کی جنگ لڑے گی اور دینی مدارس کی حفاظت کرے گی۔

50% LikesVS
50% Dislikes