آئی ایم ایف کا پاکستان میں اوسط مہنگائی 8.4 فیصد رہنے کا تخمینہ، حکومت کے ہدف سے قدرے زیادہ

آئی ایم ایف نے پاکستان میں رواں مالی سال 2026-27 کے لیے اوسط مہنگائی 8.4 فیصد رہنے کا تخمینہ لگایا ہے۔

یہ تخمینہ حکومت کے 8.2 فیصد کے ہدف سے قدرے زیادہ ہے۔ آئی ایم ایف کے مطابق گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں بھی مہنگائی میں معمولی اضافہ متوقع ہے۔

عالمی مالیاتی ادارے نے آئندہ چار مالی سالوں میں مہنگائی کو یکہ دہرا ہندسوں میں رکھنے کی پیش گوئی کی ہے۔ مہنگائی کے دباؤ میں آہستہ آہستہ کمی متوقع ہے۔

آئی ایم ایف کے ورلڈ اکنامک آؤٹ لک رپورٹ کے مطابق رواں سال کے لیے پاکستان کی مجموعی مہنگائی 8.4 فیصد رہے گی۔

حکومت نے رواں مالی سال کے بجٹ میں مہنگائی کا ہدف 8.2 فیصد رکھا تھا مگر آئی ایم ایف کا تخمینہ اس سے زیادہ ہے۔

ماہرین کے مطابق عالمی سطح پر توانائی اور غذا کی قیمتوں میں اضافہ، خاص طور پر مشرق وسطیٰ کی صورتحال کی وجہ سے مہنگائی کے دباؤ میں اضافہ ہوا ہے۔

پاکستان میں حالیہ مہینوں میں مہنگائی کی شرح 11 فیصد کے قریب رہی ہے۔ جون 2026 میں یہ 11 فیصد رہی جو مئی کے 11.7 فیصد سے کم ہے۔

آئی ایم ایف نے پاکستان کی معاشی شرح نمو کو بھی 3.5 سے 3.6 فیصد کے درمیان رکھا ہے۔

ماہرین کہتے ہیں کہ مہنگائی کو کنٹرول کرنے کے لیے مالیاتی پالیسی سخت رکھنی ہوگی اور توانائی کی درآمد پر انحصار کم کرنا ہوگا۔

آئی ایم ایف کی رپورٹ میں نشاندہی کی گئی ہے کہ اگر عالمی تیل کی قیمتیں بلند رہیں تو پاکستان جیسے درآمد پر منحصر ممالک میں مہنگائی کا دباؤ برقرار رہے گا۔

حکومت کو ٹیکس آمدن بڑھانے، سبسڈیز پر نظرثانی اور بیرونی قرضوں کے انتظام پر توجہ دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔

اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ 8.4 فیصد مہنگائی کا تخمینہ حکومت کے لیے چیلنج ہے کیونکہ عام آدمی مہنگائی سے شدید متاثر ہے۔

آئی ایم ایف کے مطابق اگلے مالی سالوں میں مہنگائی کم ہو کر یکہ دہرا ہندسہ برقرار رہے گی مگر اس کے لیے سخت معاشی اصلاحات درکار ہیں۔

یہ پیش گوئی آئی ایم ایف کے تازہ ترین سٹاف رپورٹ اور ورلڈ اکنامک آؤٹ لک میں سامنے آئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق پاکستان کی معیشت کو درپیش چیلنجز میں بیرونی قرضوں کا بوجھ، کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ اور سیاسی عدم استحکام شامل ہیں۔

50% LikesVS
50% Dislikes