اللہ تعالیٰ کو نہ مال کی حاجت ہے، نہ کسی سے قرض لینے کی، وہ ہر حاجت سے بے نیاز ہے، لیکن انسان جو کچھ صدقہ خیرات کرتا ہے، یا جہاد اور دینی کاموں میں خرچ کرتا ہے، اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت سے اسے قرض کے لفظ سے اس لیے تعبیر فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کا صلہ ایسے شخص کو دنیا اور آخرت میں اس اہتمام سے عطاء فرماتا ہے جیسے کوئی قرض دار اپنا قرض واپس کرتا ہے۔ اور اچھے قرض سے مراد یہ ہے کہ وہ پورے خلوص کے ساتھ صرف اللہ تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے دیا گیا ہو، دکھاوا مقصود نہ ہو۔ سورۃ بقرہ : 245 اور سورۃ مائدہ : 12 میں بھی اچھے قرض کی یہ تعبیر گذر چکی ہے۔