امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران کے ساتھ کوئی ڈیل نہیں ہوگی سوائے غیر مشروط سرینڈر (unconditional surrender) کے۔ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم Truth Social پر لکھا: “ایران کے ساتھ کوئی ڈیل نہیں ہوگی سوائے UNCONDITIONAL SURRENDER کے!” انہوں نے مزید کہا کہ اس کے بعد ایک “عظیم اور قابل قبول لیڈر” کا انتخاب کیا جائے گا، اور امریکہ اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر ایران کو تباہی سے نکال کر اسے معاشی طور پر پہلے سے زیادہ مضبوط اور بہتر بنائے گا۔
یہ بیان امریکہ اور اسرائیل کی مشترکہ فوجی مہم کے تقریباً ایک ہفتے بعد سامنے آیا ہے، جو 28 فروری 2026 کو شروع ہوئی تھی۔ اس مہم کا مقصد ایران کی فوجی صلاحیتوں، نیوکلیئر پروگرام اور موجودہ حکومت کو کمزور کرنا ہے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق اب تک ایران کے اندر تین ہزار سے زائد اہداف کو نشانہ بنایا جا چکا ہے، جن میں تہران، اصفہان، قم اور دیگر شہروں کے فوجی اور حکومتی مراکز شامل ہیں۔ ایران کی جانب سے اسرائیل، لبنان اور خلیجی ممالک پر ڈرون اور میزائل حملے جاری ہیں، جس کے نتیجے میں علاقائی تناؤ عروج پر ہے۔ ایرانی ریڈ کریسنٹ کے مطابق ایران میں شہری ہلاکتیں 1300 سے تجاوز کر چکی ہیں۔
دوسری جانب اسرائیلی فوج (IDF) کے چیف آف اسٹاف لیفٹیننٹ جنرل ایال ضمیر نے بیان دیا ہے کہ اسرائیل ایران کی حکومت اور اس کی فوجی صلاحیتوں کو کچل رہا ہے۔ ضمیر نے کہا کہ اسرائیل نے ایران کے فضائی دفاعی نظام کا 80 فیصد حصہ تباہ کر دیا ہے اور تقریباً مکمل فضائی برتری حاصل کر لی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ “اب ہم اگلے مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں، جہاں ہم حکومت کی بنیادوں کو مزید کمزور کریں گے اور ہر موقع سے فائدہ اٹھائیں گے۔” ضمیر نے یہ بھی اشارہ کیا کہ ابتدائی حملوں میں 40 سے زائد ایرانی رہنما مارے گئے، جن میں سپریم لیڈر علی خامنہ ای بھی شامل ہیں، اور ایران کی میزائل اور بحری صلاحیتوں کو شدید نقصان پہنچایا گیا ہے۔
یہ جنگ اب اپنے دوسرے ہفتے میں داخل ہو چکی ہے۔ ایران نے خلیجی ممالک پر حملے جاری رکھے ہوئے ہیں، جبکہ سعودی عرب، قطر اور متحدہ عرب امارات نے ایرانی میزائلوں اور ڈرونز کو روکنے کے لیے کارروائیاں کی ہیں۔ امریکہ اور اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ یہ کارروائیاں ایران کو نیوکلیئر ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے اور علاقائی امن کے لیے ضروری ہیں۔ ایران کی جانب سے شدید مزاحمت جاری ہے، اور جنگ کے خاتمے کے امکانات فی الحال نظر نہیں آ رہے۔ صورتحال انتہائی کشیدہ ہے اور مزید تصادم کا خدشہ برقرار ہے۔
