0

ٹرمپ نے امریکا میں لاکھوں تارکین وطن کی قانونی حیثیت منسوخ کر دی، بڑے پیمانے پر ملک بدری کا خطرہ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے ایک بڑے فیصلے کے تحت 530,000 سے زائد تارکین وطن کی عارضی قانونی حیثیت منسوخ کر دی ہے، جن میں کیوبا، ہیٹی، نکاراگوا، اور وینزویلا سے تعلق رکھنے والے افراد شامل ہیں۔ یہ فیصلہ 24 اپریل 2025 سے نافذ العمل ہوگا، جس کے بعد ان تارکین وطن کو یا تو رضاکارانہ طور پر امریکا چھوڑنا ہوگا یا پھر انہیں ملک بدری کے عمل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اس اقدام سے متاثرہ افراد سابق صدر جو بائیڈن کے دور میں شروع کیے گئے ایک خصوصی پروگرام (CHNV) کے تحت امریکا میں داخل ہوئے تھے، جو انہیں امریکی اسپانسرز کی مدد سے دو سال کے لیے عارضی طور پر رہنے کی اجازت دیتا تھا۔

امریکی محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی (DHS) کی جانب سے جاری کردہ ایک نوٹیفکیشن کے مطابق، یہ فیصلہ 21 مارچ 2025 کو فیڈرل رجسٹر میں شائع کیا گیا، جس میں کہا گیا کہ CHNV پروگرام کے تحت آنے والے تارکین وطن کی “پیرول” حیثیت ختم کی جا رہی ہے۔ اس پروگرام کے تحت کیوبا، ہیٹی، نکاراگوا، اور وینزویلا سے تعلق رکھنے والے افراد کو امریکی اسپانسرز کی حمایت سے براہ راست ہوائی سفر کے ذریعے امریکا میں داخل ہونے کی اجازت دی گئی تھی۔ بائیڈن انتظامیہ نے اس پروگرام کو 2022 میں وینزویلا کے شہریوں کے لیے شروع کیا تھا، جسے بعد میں 2023 میں دیگر تین ممالک تک توسیع دی گئی تھی۔ اس کا مقصد غیر قانونی سرحدی گزرگاہوں کو کم کرنا اور ان ممالک سے آنے والے تارکین وطن کے لیے قانونی راستہ فراہم کرنا تھا، جہاں سیاسی و معاشی عدم استحکام اور تشدد کی وجہ سے حالات خراب تھے۔

تاہم، ٹرمپ انتظامیہ نے اس پروگرام کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے اسے فوری طور پر معطل کر دیا تھا جب وہ جنوری 2025 میں اقتدار میں آئے۔ اب اس پروگرام کے تحت آنے والے 532,000 تارکین وطن کو 24 اپریل تک ملک چھوڑنے کا کہا گیا ہے، ورنہ انہیں تیز رفتار ملک بدری کے عمل (ایکسپیڈیٹڈ ریموول) کا سامنا کرنا پڑے گا۔ محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی نے کہا ہے کہ جن افراد نے اس دوران دیگر قانونی حیثیت جیسے کہ پناہ (اسائلم) یا گرین کارڈ کے لیے درخواست نہیں دی، یا وہ حاصل نہیں کی، انہیں فوری طور پر گرفتار کرکے ملک بدر کیا جا سکتا ہے۔

اس فیصلے کے بعد امریکی شہریوں، تارکین وطن کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں، اور وکلاء کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ جیسٹس ایکشن سینٹر کی ڈائریکٹر کیرن ٹملن نے کہا کہ “ٹرمپ انتظامیہ ان لاکھوں تارکین وطن اور ان کے امریکی اسپانسرز سے کیا گیا وعدہ توڑ رہی ہے۔ اس فیصلے سے نہ صرف ان افراد کی زندگیاں خطرے میں پڑ جائیں گی بلکہ امریکی معاشرے اور معیشت کو بھی نقصان پہنچے گا، جہاں یہ لوگ پہلے سے ہی اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔” انہوں نے مزید کہا کہ یہ فیصلہ “بلاوجہ کی افراتفری اور دل شکنی” کا باعث بنے گا۔

کیلیفورنیا کی ایک امیگریشن وکیل نیکولیٹ گلیزر نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ایکس پر کہا کہ “اس فیصلے سے افراتفری کا عالم ہوگا۔” ان کا کہنا تھا کہ متاثرہ افراد کی بڑی تعداد اب غیر قانونی حیثیت میں چلی جائے گی، جس سے ان کی زندگیاں مزید مشکل ہو جائیں گی۔ کچھ امریکی شہریوں اور تارکین وطن نے مل کر ٹرمپ انتظامیہ کے خلاف مقدمہ دائر کیا ہے، جس میں اس پروگرام کو بحال کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

ٹرمپ نے 6 مارچ کو اعلان کیا تھا کہ وہ جلد ہی 240,000 یوکرینی تارکین وطن کی عارضی قانونی حیثیت کے بارے میں فیصلہ کریں گے، جو روس کے ساتھ تنازع کے دوران امریکا میں پناہ لینے آئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس بارے میں “بہت جلد” فیصلہ کریں گے، اور اطلاعات ہیں کہ ان کی انتظامیہ اپریل کے آخر تک ان کی حیثیت بھی ختم کر سکتی ہے۔ یہ یوکرینی شہری بھی بائیڈن انتظامیہ کے ایک خصوصی پروگرام کے تحت امریکا میں داخل ہوئے تھے، اور اب انہیں بھی ملک بدری کا سامنا ہو سکتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ بین الاقوامی قوانین کے تحت غیر قانونی ہو سکتا ہے، کیونکہ امریکا “نان ریفولمنٹ” کے اصول کا پابند ہے، جو کسی بھی شخص کو ایسی جگہ واپس بھیجنے سے روکتا ہے جہاں ان کی زندگی یا آزادی کو خطرہ ہو۔ کیوبا، ہیٹی، نکاراگوا، اور وینزویلا میں جاری سیاسی عدم استحکام، تشدد، اور معاشی بحران کی وجہ سے ان ممالک میں واپسی ان تارکین وطن کے لیے خطرناک ہو سکتی ہے۔ مثال کے طور پر، ہیٹی میں گینگ وار اور سیاسی بدامنی کی وجہ سے حالات انتہائی خراب ہیں، جبکہ وینزویلا میں معاشی بحران نے لاکھوں افراد کو نقل مکانی پر مجبور کیا ہے۔

قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس فیصلے کے خلاف عدالتوں میں چیلنج کیا جا سکتا ہے، کیونکہ یہ امریکی انتظامیہ کے اپنے وعدوں اور بین الاقوامی ذمہ داریوں کی خلاف ورزی ہے۔ کئی تنظیموں نے اس فیصلے کو “بے رحمانہ” قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ان افراد کو نشانہ بنا رہا ہے جنہوں نے قانونی طور پر امریکا میں داخل ہونے کے لیے تمام تقاضوں کو پورا کیا تھا۔

یہ تارکین وطن امریکی معیشت میں اہم کردار ادا کر رہے تھے، خاص طور پر صحت، تعمیرات، اور زراعت جیسے شعبوں میں، جہاں وہ افرادی قوت کا اہم حصہ تھے۔ ان کی قانونی حیثیت ختم ہونے سے نہ صرف ان کی ملازمتوں پر اثر پڑے گا بلکہ ان شعبوں میں افرادی قوت کی کمی کا بھی سامنا ہو سکتا ہے۔ مزید برآں، ان کے امریکی اسپانسرز، جنہوں نے ان کی مالی معاونت کی ذمہ داری لی تھی، بھی اس فیصلے سے متاثر ہوں گے۔

ٹرمپ انتظامیہ کے اس فیصلے کو ان کے وسیع تر امیگریشن ایجنڈے کا حصہ سمجھا جا رہا ہے، جس میں غیر قانونی تارکین وطن کے ساتھ ساتھ قانونی طور پر آنے والوں کے راستے بھی بند کیے جا رہے ہیں۔ ٹرمپ نے اپنی انتخابی مہم کے دوران وعدہ کیا تھا کہ وہ غیر قانونی تارکین وطن کی بڑے پیمانے پر ملک بدری کریں گے، لیکن اب ان کی پالیسیوں سے قانونی طور پر موجود تارکین وطن بھی متاثر ہو رہے ہیں۔ کچھ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ سیاسی مقاصد کے لیے کیا گیا ہے، تاکہ ٹرمپ اپنے ووٹرز کو یہ پیغام دے سکیں کہ وہ امیگریشن کے حوالے سے سخت موقف اپنائے ہوئے ہیں، لیکن اس کے طویل مدتی اثرات امریکی معاشرے اور معیشت پر منفی ہو سکتے ہیں۔

دریں اثنا، وینزویلا کی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ وہ امریکا سے اپنے شہریوں کی واپسی کے لیے پروازوں کا سلسلہ دوبارہ شروع کرنے پر رضامند ہو گئی ہے۔ اس معاہدے کے تحت وینزویلا سے تعلق رکھنے والے تارکین وطن کو واپس ان کے ملک بھیجا جائے گا، لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ وینزویلا کے موجودہ حالات کو دیکھتے ہوئے یہ فیصلہ ان افراد کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال سکتا ہے۔

اس فیصلے کے بعد متاثرہ تارکین وطن کے پاس چند اختیارات باقی ہیں۔ وہ یا تو رضاکارانہ طور پر امریکا چھوڑ سکتے ہیں، یا پھر دیگر قانونی حیثیت جیسے کہ پناہ کے لیے درخواست دے سکتے ہیں۔ تاہم، ٹرمپ انتظامیہ نے پناہ کے نظام کو بھی سخت کر دیا ہے، جس کی وجہ سے یہ عمل انتہائی مشکل ہو گیا ہے۔ کچھ افراد کے لیے گرین کارڈ یا دیگر امیگریشن فوائد حاصل کرنا ممکن ہو سکتا ہے، لیکن یہ عمل طویل اور پیچیدہ ہے۔

امریکی شہریوں اور تارکین وطن کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں نے اس فیصلے کے خلاف احتجاج کا اعلان کیا ہے، اور کئی مقامات پر مظاہرے بھی ہو رہے ہیں۔ یہ معاملہ اب عدالتوں میں بھی چیلنج کیا جا رہا ہے، اور امکان ہے کہ اس فیصلے پر قانونی جنگ کئی ماہ تک جاری رہ سکتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں