Asim Trump 0

پاکستان اور امریکا کے تعلقات میں بڑھتی قربت، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر عالمی توجہ کا مرکز

اسلام آباد: پاکستان اور امریکا کے درمیان تعلقات میں نمایاں بہتری دیکھی جا رہی ہے، اور اس کی کامیابی کی دہلیز پر فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت نمایاں ہو رہی ہے، جو اب عالمی موضوع بن چکی ہے۔ ماہرینِ خارجہ پالیسی اور عالمی جرائد مسلسل پاک-امریکی تعلقات پر تبصرے اور تجزیے پیش کر رہے ہیں، جن میں فیلڈ مارشل کی سفارتی صلاحیتوں کو سراہا جا رہا ہے۔

امریکی رسالہ ’دی نیشنل انٹرسٹ‘ میں عالمی امور کے ماہر ایلدار میمدوف نے لکھا کہ پاکستان نے امریکا میں اپنی پوزیشن مستحکم کی، ڈونلڈ ٹرمپ کے قریبی حلقوں میں جگہ بنائی، اور واشنگٹن میں پاکستان کے نئے حامی سامنے آئے۔ انہوں نے بتایا کہ بھارت کے ساتھ حالیہ کشیدگی کے دوران پاکستان کی حکمت عملی اور ٹرمپ کی مداخلت نے چار روزہ تنازع کو روکنے میں اہم کردار ادا کیا۔ پاکستان نے ٹرمپ کی ثالثی کو سراہتے ہوئے ان کے لیے نوبل امن انعام کی نامزدگی تک تجویز کی، جبکہ نریندر مودی نے اس ثالثی اور امن کے کردار کو مسترد کر دیا۔ مودی نے امریکی صدر کی دعوت کے باوجود واشنگٹن کا دورہ نہیں کیا، جس سے ٹرمپ ناراض ہوئے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق، امریکی صدر نے وائٹ ہاؤس میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو مدعو کیا، جس کے بعد دونوں رہنماؤں کے تعلقات دوستی کے نئے دائرے میں داخل ہوئے۔ اس ملاقات کے نتیجے میں ٹرمپ نے پاکستان کے ساتھ بڑے معاشی معاہدوں کا اعلان کیا، جبکہ بھارت پر اضافی ٹیرف لگا کر نئی دہلی کو بیجنگ اور ماسکو کی طرف دھکیل دیا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ مودی سات سال بعد پہلی بار بیجنگ کا دورہ کرنے پر مجبور ہوئے۔

امریکی اخبار ’واشنگٹن ٹائمز‘ نے فیلڈ مارشل عاصم منیر کو ’مردِ آہن‘ قرار دیتے ہوئے انہیں جنوبی ایشیا کی سلامتی کی سب سے بااثر شخصیت قرار دیا۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ عاصم منیر نظم و ضبط کے پابند، خودنمائی اور سیاسی مداخلت سے دور رہنے والے فوجی رہنما ہیں، جنہوں نے پاکستان کی عوامی مقبولیت میں اضافہ کیا اور صدر ٹرمپ کے ’فطری ساتھی‘ کے طور پر ابھرے۔ اخبار نے کہا کہ پاک-امریکی تعلقات انسداد دہشت گردی کے تعاون سے مزید مستحکم ہوئے، جہاں پاکستان نے کابل ایئرپورٹ حملے کے ماسٹر مائنڈ کو گرفتار کرکے امریکا کے حوالے کیا، جس پر ٹرمپ نے پاکستان کی کاوشوں کی تعریف کی۔

فیلڈ مارشل نے افغانستان اور ایران سے پیدا ہونے والے خطرات سے نمٹنے اور دہشت گرد تنظیموں کے خلاف بھرپور کارروائی میں کلیدی کردار ادا کیا۔ عالمی ماہرین کے خیال میں ان کی قائدانہ صلاحیتوں اور متوازن پالیسی نے فوجی سفارت کاری کی شاندار مثال قائم کی، اور اب انہیں امریکا میں جنوبی ایشیا کی سلامتی کے لیے اہم اسٹریٹجک شراکت دار کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں