ایک اہم پیش رفت کے طور پر، آج ملک بھر میں سونے کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جو سرمایہ کاروں اور صارفین دونوں کے لیے توجہ کا مرکز بن گیا۔ آل پاکستان جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق، فی تولہ سونے کی قیمت میں 3 ہزار 600 روپے کا اضافہ ہوا ہے، جس کے بعد اب یہ 3 لاکھ 67 ہزار 400 روپے فی تولہ ہو گئی ہے۔ اسی طرح، 10 گرام سونے کی قیمت میں 3 ہزار 172 روپے کا اضافہ ہوا، اور اب اس کی قیمت 3 لاکھ 14 ہزار 986 روپے ہو گئی ہے۔
دریں اثنا، عالمی مارکیٹ میں بھی سونے کے داموں میں اضافہ دیکھا گیا ہے، جہاں اس کی قیمت 36 ڈالر بڑھ کر 3 ہزار 447 ڈالر فی اونس ہو گئی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اضافہ عالمی معاشی حالات، جغرافیائی کشیدگیوں، اور سرمایہ کاروں کا محفوظ اثاثوں کی طرف رجحان بڑھنے کی وجہ سے ہوا ہے، جو حالیہ عالمی عدم استحکام کی عکاسی کرتا ہے۔
دوسری جانب، اس مقامی اضافے سے زیورات کی صنعت اور عام صارفین پر دباؤ بڑھنے کا خدشہ ہے، خاص طور پر شادیوں کے سیزن میں جہاں سونے کی مانگ عروج پر ہوتی ہے۔ کچھ مبصرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر عالمی رجحانات برقرار رہے تو قیمتیں مزید بلند ہو سکتی ہیں، جبکہ حکام نے صارفین کو ہوشیاری سے فیصلے کرنے اور مارکیٹ کے رجحانات پر نظر رکھنے کی ہدایت کی ہے۔
اس کے علاوہ، معاشی ماہرین نے بتایا کہ ڈالر کی قدر میں اتار چڑھاؤ اور مقامی ڈیمانڈ بھی اس اضافے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ تاجروں کا کہنا ہے کہ نئی قیمتیں فوری طور پر نافذ ہو چکی ہیں، اور مارکیٹ میں اس کا فوری اثر دیکھا جا رہا ہے، جس سے سونے کی خرید و فروخت میں ایک عارضی سست روی بھی نوٹ کی گئی ہے۔
تنقیدی جائزہ میں، کچھ حلقوں نے سوال اٹھایا ہے کہ کیا عالمی اضافے کا پورا فائدہ مقامی صارفین تک منتقل ہو رہا ہے، یا تاجروں کی جانب سے منافع کا اضافہ بھی اس میں شامل ہے۔ اس کے علاوہ، حالیہ مہنگائی کے تناظر میں یہ اضافہ عام آدمی کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے، خاص طور پر جو زیورات کو بچت یا سرمایہ کاری کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔
آخری اطلاعات کے مطابق، اس پیش رفت سے متعلق مزید جائزہ لیا جا رہا ہے، اور آنے والے دنوں میں عالمی مارکیٹ کے رجحانات اس بات کا تعین کریں گے کہ یہ اضافہ عارضی ہے یا مستقل رہنے والا۔ حکام نے یقین دلایا ہے کہ مارکیٹ کی نگرانی جاری رہے گی، اور اگر ضرورت پڑی تو مناسب اقدامات اٹھائے جائیں گے۔
