02 ذوالقعدہ 1447ھ
20 اپریل 2026ء
پیر Monday
اَمۡ نَجۡعَلُ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ کَالۡمُفۡسِدِیۡنَ فِی الۡاَرۡضِ اَمۡ نَجۡعَلُ الۡمُتَّقِیۡنَ کَالۡفُجَّارِ
جو لوگ ایمان لائے ہیں، اور جنہوں نے نیک عمل کیے ہیں، کیا ہم ان کو ایسے لوگوں کے برابر کردیں گے جو زمین میں فساد مچاتے ہیں؟ یا ہم پرہیزگاروں کو بدکاروں کے برابر کردیں گے؟
یہ آخرت کے ضروری ہونے کی دلیل ہے، اور پچھلی آیتوں سے اس کا ربط یہ ہے کہ جب ہم نے حضرت داوٗد (علیہ السلام) کو اپنے خلیفہ کی حیثیت میں یہ حکم دیا ہے کہ وہ عدل و انصاف سے کام لیں تو کیا ہم خود انصاف نہیں کریں گے؟ اسی انصاف کے لیے آخرت میں حساب و کتاب ہوگا، ورنہ یہ لازم آئے گا کہ ہم نے نیک لوگوں اور بدکاروں کے درمیان کوئی فرق نہیں رکھا، اور دنیا میں چاہے کوئی شخص اچھے کام کرے یا بدکاری کا مرتکب ہو، نہ اس سے کوئی باز پرس ہونی ہے اور نہ نیک آدمی کو کوئی انعام ملنا ہے۔ ایسی بے انصافی اللہ تعالیٰ کیسے گوارا فرما سکتے ہیں؟
حوالہ: سورۃ ص آیت 28
⭐ اس ایپ کو انسٹال کریں 👇:
https://play.google.com/store/apps/details?id=com.aajkitareekh
اسلامی پیغام ہر روز پائیں!
