لاہور: جمعیت علماء اسلام پاکستان کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے مرحوم سید سلمان گیلانی کی یاد میں منعقد خصوصی سیمینار سے ایک طویل اور جامع خطاب کیا۔ ایوان اقبال لاہور میں منعقد اس سیمینار میں مولانا نے سلمان گیلانی کی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا اور امت مسلمہ کی وحدت، اسلامی نظام کی اہمیت، ملک کی موجودہ سیاسی و معاشی صورتحال اور عالمی چیلنجز پر تفصیلی گفتگو کی۔
مولانا فضل الرحمٰن نے خطاب کا آغاز حمد و ثنا سے کیا اور قرآن مجید کی آیت “وَمَا كَانَ لِنَفْسٍ أَن تَمُوتَ إِلَّا بِإِذْنِ اللَّهِ كِتَابًا مُّؤَجَّلًا ۗ وَمَن يُرِدْ ثَوَابَ الدُّنْيَا نُؤْتِهِ مِنْهَا وَمَن يُرِدْ ثَوَابَ الْآخِرَةِ نُؤْتِهِ مِنْهَا ۚ وَسَنَجْزِي الشَّاكِرِينَ” (سورۃ آل عمران: 145) کی تلاوت کرتے ہوئے کہا کہ ہر نفس اللہ کے مقرر کردہ وقت پر ہی موت کا ذائقہ چکھے گا۔ انہوں نے سلمان گیلانی سے اپنے پچاس سالہ تعلق کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ امت کے لیے ایک بڑا نقصان ہیں، لیکن ان کی یادوں کو زندہ رکھنے کے لیے عملی جدوجہد جاری رکھنی چاہیے۔
مولانا نے سلمان گیلانی کو ایک فکری اور نظریاتی شخصیت قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ عقیدہ ختم نبوت کے حامی تھے اور ان کی قربانیاں تاریخ کے صفحات پر درج ہیں۔ انہوں نے برصغیر کی تاریخ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انگریز نے تعلیم کے نظام کو تقسیم کر کے دینی علوم کو نشانہ بنایا، جس کے جواب میں اکابرین نے دینی مدارس قائم کیے۔ انہوں نے بتایا کہ آج بھی دینی مدارس پر حملے جاری ہیں، لیکن یہ مدارس قوم کے لیے فلاح و بہبود کے مراکز ہیں۔
مولانا نے موجودہ حکومتی پالیسیوں پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ آئین کے مطابق قوانین قرآن و سنت کے تابع ہونے چاہئیں، لیکن زنا بالرضا اور کم عمر نکاح پر پابندی جیسے قوانین اسلامی اصولوں کے خلاف ہیں۔ انہوں نے جنرل مشرف کے دور میں بنائے گئے قوانین کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے حقوق نسواں کے نام پر اسلامی حدود کو کمزور کیا۔
عالمی سطح پر مولانا نے اسرائیل کی فلسطین، لبنان، شام اور ایران پر بمباریوں کی مذمت کی اور امریکی صدر ٹرمپ کے امن کے دعووں کو جھوٹا قرار دیا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان حکومت ٹرمپ کے لیے امن نوبل ایوارڈ کی سفارش واپس لے۔ انہوں نے چین اور ایشیا کی اقتصادی طاقت پر زور دیتے ہوئے ایشیاٹک فیڈریشن کے نظریے کی حمایت کی۔
مولانا نے جے یو آئی کارکنوں سے اپیل کی کہ وہ چھوٹے مسائل کی بجائے عالمی، خطے کے، اور ملکی مستقبل پر توجہ دیں۔ انہوں نے کہا کہ جماعت کو عوام میں اتر کر ان کے مسائل حل کرنے چاہئیں اور سیاسی طاقت حاصل کرنی چاہیے۔ انہوں نے اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ پر زور دیتے ہوئے کہا کہ حکومت میں آنے کے بعد ہر مکتب فکر کے حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جائے گا۔
انہوں نے وحدت اور شوریٰ کے نظام پر عمل کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ تنظیمی جھگڑوں کو ختم کر کے صفوں میں اتحاد ضروری ہے۔ انہوں نے حدیث “الجماعة رحمة والفرقة عذاب” کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اختلافات کو ختم کرنا چاہیے۔
سیمینار میں اکابر علماء، زعماء ملت اور جماعت کے سینئر رہنما موجود تھے، جنہوں نے مولانا کے خطاب کی تعریف کی اور سلمان گیلانی کی خدمات کو یاد کیا۔
یہ سیمینار مرحوم سید سلمان گیلانی کی یاد میں منعقد کیا گیا تھا، جس میں مولانا فضل الرحمٰن کا خطاب امت کی وحدت اور اسلامی نظام کی ضرورت پر ایک اہم دستاویز ثابت ہوا۔
