Tahir Khan, Moulana

مولانا فضل الرحمان کا خصوصی انٹرویو: پاکستان-افغانستان تنازع پر سفارتی حل کی ضرورت پر زور

05 مارچ 2026 کو مشال ریڈیو کے نمائندے طاہر خان نے جمعیۃ علماء اسلام (جے یو آئی) کے امیر مولانا فضل الرحمان سے خصوصی انٹرویو کیا، یہ گفتگو پاکستان اور افغانستان کے درمیان جاری کشیدگی، ممکنہ جنگ، سفارتی راستوں کی اہمیت، اور وسیع تر مشرق وسطیٰ کے تنازعات پر مرکوز تھی۔ مولانا صاحب نے پاکستان-افغانستان تعلقات کو بہتر بنانے کے لیے بات چیت اور عوامی سطح پر رابطوں کی وکالت کی، جبکہ فلسطین، ایران اور اسرائیل-امریکہ تنازع پر بھی کھل کر بات کی۔ یہ انٹرویو ایسے وقت میں سامنے آیا جب علاقائی تناؤ عروج پر ہے، اور پاکستان مغربی سرحد پر چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے۔

مولانا فضل الرحمان نے انٹرویو کے آغاز میں واضح کیا کہ وہ سیاسی رہنما ہیں اور ان کی سیاست میں تشدد یا بندوق کی کوئی جگہ نہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کا ماحول کبھی ایسا نہیں رہا کہ دونوں ممالک ایک دوسرے سے بات نہ کر سکیں۔ مولانا صاحب نے زور دیا کہ حکومتی سطح پر بات چیت ناکام ہونے کی صورت میں عوامی اور سیاسی شخصیات کو استعمال کیا جا سکتا ہے، جو دونوں ممالک میں اثر و رسوخ رکھتی ہیں۔ انہوں نے اپنا ذاتی تجربہ شیئر کرتے ہوئے بتایا کہ دو سال قبل انہوں نے افغانستان کا دورہ کیا تھا، جہاں ایک ہفتے کے قیام کے دوران گلے شکوے دور کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔ تاہم، الیکشن میں مبینہ مداخلت اور دیگر مسائل کی وجہ سے رابطے منقطع ہو گئے۔ مولانا صاحب کا کہنا تھا کہ پاکستان کی شکایتیں جائز ہیں، کیونکہ دہشت گردی کے مراکز افغانستان میں ہیں، جو پاکستان کے فوجیوں، پولیس اور شہریوں کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ انہوں نے افغان طالبان کی طرف سے پاکستان کے خلاف اندیشوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ افغان حکومت کو مسئلہ حل کرنے میں دلچسپی تھی، لیکن پاکستان کی عجلت اور افغانوں کی مہلت کی خواہش کے درمیان بات بگڑ گئی۔

طاہر خان کے سوال پر مولانا صاحب نے افغان طالبان کے بارے میں کہا کہ پاکستان کی شکایتیں درست ہیں، کیونکہ پاکستان میں ہونے والے حملوں کے مراکز افغانستان میں ہیں۔ انہوں نے پوچھا کہ آیا افغان حکومت ان کی سرپرستی کر رہی ہے یا بے بس ہے؟ مولانا صاحب نے اپنے افغانستان دورے کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ افغان رہنماؤں کو مسئلہ حل کرنے میں دلچسپی تھی، لیکن وقت کی کمی کی وجہ سے بات آگے نہ بڑھ سکی۔ انہوں نے سرحد کی مشترکہ نوعیت پر زور دیا، جہاں دونوں طرف پختون آباد ہیں اور خاندانی روابط موجود ہیں۔ مولانا صاحب نے بتایا کہ قبائلی رہنما، بلوچستان کے پختون اور تاجر ان سے رابطے میں ہیں اور سرحدی مسائل کی شکایتیں کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اب بھی بات چیت کی گنجائش موجود ہے اور غلط کو غلط کہہ کر حل نکالا جا سکتا ہے۔

انٹرویو میں مولانا صاحب نے وزیر اعظم کی سرپرستی میں ہونے والے اجلاس کا ذکر کیا اور کہا کہ گزشتہ ادوار میں جیسے نواز شریف نے 2015 میں جرگہ بھیجا تھا، ویسے اب بھی سیاسی جماعتیں جیسے جے یو آئی، جماعت اسلامی اور پختون ملت پارٹیاں کردار ادا کر سکتی ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ملکوں کی نمائندگی حکومت کرتی ہے، لیکن عوامی سطح پر رابطے ضروری ہیں۔ مولانا صاحب نے کہا کہ اگر حکومت خواہش ظاہر کرے تو کوئی انکار نہیں کرے گا، اور جو شخصیات اثر رکھتی ہیں، وہ وطن کی خاطر تیار ہوں گی۔ تاہم، اب تک حکومت نے ایسی شخصیات یا تنظیموں سے رابطہ نہیں کیا۔ انہوں نے پاکستان-ہندوستان تنازع کا مثال دیتے ہوئے بتایا کہ 2003 میں جب دونوں ممالک کے درمیان رابطے منقطع تھے، تو جے یو آئی کا وفد بھارت گیا اور بات چیت کے ذریعے مسائل حل کرائے۔ مولانا صاحب نے زور دیا کہ “گولی نہیں، بولی” سے کام لینا چاہیے، اور بااثر لوگ افغانستان جا کر بات چیت کر سکتے ہیں، کیونکہ دونوں طرف شناخت اور روابط موجود ہیں۔

مولانا صاحب نے پاکستان کے مستقبل پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مشرقی سرحد پر ہندوستان اور مغربی سرحد پر افغانستان کے ساتھ تناؤ ملک کے لیے خطرناک ہے۔ انہوں نے قرآن کریم کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر دو طائفے لڑ پڑیں تو مسلمانوں کو صلح کرانی چاہیے۔ مولانا صاحب نے اسلامی ممالک پر زور دیا کہ وہ پاکستان-افغانستان تنازع حل کرنے میں سنجیدگی دکھائیں۔ انہوں نے افغان رہنماؤں کی سوچ پر بات کرتے ہوئے کہا کہ سرحد، تجارت، مہاجرین اور مسلح گروہوں پر گفتگو ہوئی تھی، اور افغان طالبان جنگ نہیں چاہتے، لیکن حالات مختلف ہیں۔ مولانا صاحب نے تجویز دی کہ ایک دوسرے کو الزام دینے کی بجائے حل پر توجہ دی جائے، کیونکہ صلح میں خیر ہے۔

انٹرویو کے آخری حصے میں مولانا صاحب نے اسرائیل-امریکہ کے ایران پر حملے اور جوابی کارروائی پر بات کی۔ انہوں نے اسلامی دنیا کی کمزوری پر تنقید کی کہ فلسطینیوں کو تنہا چھوڑ دیا گیا اور بیت المقدس کے مسئلے پر کوئی کردار ادا نہیں کیا۔ مولانا صاحب نے فلسطین میں ہونے والی ہلاکتوں، بے گھری اور بھوک کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اسلامی ممالک نے خوراک تک پہنچانے کا راستہ نہیں دیا۔ انہوں نے ٹرمپ کے “بیس نکات” اور “بورڈ آف پیس” (جسے وہ بورڈ آف وار کہتے ہیں) پر تنقید کی، جہاں فلسطینیوں کی نمائندگی نہیں تھی۔ مولانا صاحب نے کہا کہ اسلامی ممالک نے انسانی حقوق اور بین الاقوامی معاہدوں کو نظر انداز کیا، اور اب ایران-عرب تنازع میں شکایتیں پیدا ہو رہی ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ مسلمان ممالک امریکہ کو اڈے دے کر خود کو خطرے میں ڈال رہے ہیں، اور امن تب آئے گا جب اصولوں پر عمل کیا جائے۔

مولانا فضل الرحمان کا یہ انٹرویو سفارتکاری، بات چیت اور اسلامی اتحاد کی اہمیت پر روشنی ڈالتا ہے۔ انہوں نے پاکستان-افغانستان تنازع کو حل کرنے کے لیے سیاسی اور عوامی سطح پر کوششوں کی اپیل کی، جبکہ مشرق وسطیٰ کے مسائل پر اسلامی دنیا کی ذمہ داری کو یاد دلایا۔ یہ انٹرویو علاقائی امن کے لیے ایک اہم آواز ہے، جو تشدد کی بجائے حکمت اور صلح پر زور دیتا ہے۔